حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اگر عوام کی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہو تو کیا سڑکوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے؟ نثار باز نے اسمبلی میں سوالات اٹھا دیئے۔ Home / باجوڑ /

اگر عوام کی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہو تو کیا سڑکوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے؟ نثار باز نے اسمبلی میں سوالات اٹھا دیئے۔

ایڈیٹر - 15/01/2026
اگر عوام کی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہو تو کیا سڑکوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے؟ نثار باز نے اسمبلی میں سوالات اٹھا دیئے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سڑکوں کے معیار اور نگرانی کے نظام پر سوالات، ٹھیکیداروں کی ذمہ داری پر زور

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے معیار پر تفصیلی بحث ہوئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رکن نثار باز نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ کے پاس سڑکوں کے معیار کو جانچنے کے لیے جدید آلات اور ٹیسٹنگ مشینری موجود ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عوام کی جانب سے اعتراض نہ آئے تو کیا سڑکوں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے۔   ڈمہ ڈولہ سے عمرے چوک تک سڑک بند،اگر اس سڑک کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو تمام احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ نثار باز

وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بنیادی سوال کا جواب محکمہ دے چکا ہے جبکہ سپلیمنٹری سوال درست ہے، کیونکہ میگا ترقیاتی منصوبوں میں بعض اوقات عوامی اعتراض کے بغیر چیکنگ نہیں کی جاتی۔ اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم نے ہدایت دی کہ رپورٹ آنے تک فنڈز جاری نہ کیے جائیں اور متعلقہ اداروں کو اس عمل کا پابند بنایا جائے، تاکہ نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

باجوڑحلقہ پی کے 22کے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم فوری طور بند کی جائے۔ایم پی اے نثار باز

ایم پی اے نثار باز نے اپنے سوال کے تمام نکات پر جواب دینے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتراض کے بعد دوبارہ تعمیر کی صورت میں اخراجات کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ تعمیر میں خرابی کی صورت میں ذمہ داری ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے، جبکہ قواعد کے مطابق سڑک کی وارنٹی ایک سال تک ہوتی ہے اور اس دوران ٹھیکیدار کی سیکیورٹی حکومت کے پاس رہتی ہے، بعد ازاں ادائیگی کی جاتی ہے۔

بحث کے دوران نثار باز نے کہا کہ موجودہ نظام میں فائدہ بیوروکریسی اٹھا رہی ہے جبکہ بدنامی سیاستدانوں کے حصے میں آتی ہے، اس لیے نظام کو درست کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو سڑکوں کی تعمیر کے پانچ سال بعد بھی مانیٹرنگ کو لازمی بنانا چاہیے تاکہ عوام کو پائیدار اور معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔