باجوڑ۔ ماموند کیٹگری ڈی ہسپتال کو مزید ٹھیکہ داری نظام کے بجائے سرکاری نظام کے تحت چلایاجائے ، عوام کی تکلیف میں کمی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار ماموند کے نامور سیاسی وسماجی شخصیت ملک جاویدعلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
باجوڑ نرسنگ کالج ایڈمن بلاک سے چار سالہ غیر قانونی قبضہ ختم
انہوں نے کہاکہ ماموند ہسپتال اس وقت کیٹیگری ڈی کے تحت TCP (ٹھیکیداری نظام) میں چل رہا ہے۔
اس نظام کے تحت ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور عوام اس ٹھیکیداری نظام سے شدید طور پر غیر مطمئن ہیں۔
یہاں کسی قسم کی معیاری یا خصوصی طبی سہولت دستیاب نہیں، حتیٰ کہ ایمرجنسی سروسز بھی مؤثر انداز میں فعال نہیں ہیں۔
حکومتِ وقت کی جانب سے ماموند ہسپتال کو کیٹیگری سی میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری تو دی جا چکی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاحال اسے کیٹیگری سی کے تحت باقاعدہ طور پر فعال نہیں کیا گیا۔
اس تاخیر کے باعث، وسیع رقبے اور بڑی آبادی کے باوجود، علاقہ مکین آج بھی معیاری علاج جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
یہ ہسپتال تین تحصیلوں کو کور کرتا ہے اور اس سے وابستہ آبادی کم از کم چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جن کی صحت کی ضروریات کو نظرانداز کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ہم حکومت وقت، منتخب عوامی نمائندگان اور محکمہ صحت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ماموند ہسپتال کو فوری طور پر کیٹیگری سی کے دائرہ کار میں سرکاری طور پر فعال کیا جائے،
اسے مزید ٹھیکیداری نظام کے تحت رکھنے کے بجائے حکومتی انتظام میں چلایا جائے،اور عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی معیاری اور بروقت علاج، فراہم کیا جائے۔خدارا اس پسماندہ علاقے کے عوام پر رحم کیا جائے اور ماموند ہسپتال کو جلد از جلد مکمل طور پر حکومت کے تحت فعال کیا جائے۔