لوئر دیر کے درجہ چہارم ملازمین نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کی پرائیوٹایزشن پالیسی کو مسترد کر دیا ملازمین کی ڈیلی ویجز بھرتی کے بجائے ریٹائرڈ کلاس فور ملازمین کے بچوں کو کوٹہ سن کے تحت بھرتی کیا جائے سرکاری سکولوں کے کلاس فور ملازمین نے سکولوں کی تعمیر کے لئے اپنے کروڑوں روپے کے آراضیات دی ہیں اگر سکولوں کی نجکاری کی جائے تو پھر ان ملازمین کا کیا ہوگا جنہوں نے اپنی قیمتی آراضیات سکولوں کے لئے دی ہیں اس حوالے سے لوئر دیر کے درجہ چہارم ملازمین کا ایک اجلاس ضلع کونسل ہال بلامبٹ میں منعقد ہوا جس سے درجہ چہارم ایسوسی ایشن لوئر دیر کے صدر عبیدالرحمان، جنرل سیکرٹری راحت اللہ روغانی، کلاس فور محکمہ ایجوکیشن صدر محمود خان،نائب صدعمر رحمان، شیر باچا، واحد زمان و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے سرکاری سکولوں کی نجکاری کو مسترد کردیا اور اس کی مذمت کی مقررین نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے کلاسفور ملازمین کی بھرتی پر پابندی ہے گزشتہ تین سالوں کے دوران 350 کے قریب درجہ چہارم ملازمین ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لیکن ان کی جگہ بھرتی نہیں کی گئی سرکار ی نوٹفکیشن کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا میں 79پوسٹوں پر کلاس فور ڈیلی ویجز بنیادوں پر بھرتی کئے جا ئینگے جیسے ہم مسترد کرتے ہیں ڈیلی ویجز بنیادوں کے بجائے اس پر ریٹائرڈ کلاس فور ملازمین کے بچوں کوسن کوٹہ پر بھرتی کیاجائے انھوں نے مطالبہ کیا کہ کلاس فور ملازمین کو مختلف کیڈر پر پروموشن دی جائے اور درجہ چہارم ملازمین کے لئے جو نیئرکلرک کو ٹہ کو یقینی بنا یا جائے چوکیداروں سے 24گھنٹے ڈیوٹی لینے کے بجائے 8 گھنٹے ڈیوٹی لینے کے فیصلے پر عمل درآمد کرایا جائے اور سکولوں کے لئے ایک کے بجائے دو سرا چوکیدار بھرتی کیا جائے انھوں نے کہا کہ پنشن اصلا حات کے نام پر سرکا ری ملازمین کا معاشی قتل منظور نہیں مہنگائی کی تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور آل محکمہ جات سرکاری ملازمین کوٹائم سکیل دی جائے۔