وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے صوبائی وزیر لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیوز فضل حکیم خان یوسفزئی نے ملاقات کی، جس میں سوات خصوصاً مینگورہ اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ بارشوں و سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات، ریلیف اور بحالی کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فضل حکیم خان نے وزیراعلیٰ کو گھروں، دکانوں، کاروباری مراکز اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے مینگورہ ندی کو ملبے سے صاف کرنے، اس کی گہرائی 8 سے 10 فٹ تک بڑھانے اور اضافی حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر وزیراعلیٰ نے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں مال مویشی پالنے والے افراد کے نقصانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی و فنی معاونت فراہم کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے پر بھی بات چیت ہوئی، جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گی جن سے مقامی لوگوں کو بہتر سہولیات اور انتظامی سہارا ملے۔ فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ وہ اسلام کی روشنی اور عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خلوص نیت سے اقدامات جاری رکھیں گے۔