خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں سے فوری طور پر سفارشات اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حساس معاملے پر حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
سرکاری ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، ملکی اور صوبائی سطح پر موجودہ کاروباری صورتحال اور دیگر محرکات کے پیش نظر ابتدائی طور پر بازاروں اور تجارتی مراکز کو رات 9 بجے جبکہ شادی ہالز اور پبلک گیدرنگ کے مقامات کو رات 10 بجے بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، صوبائی انتظامیہ کسی بھی حتمی اقدام سے قبل تمام شراکت داروں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے، جس کے لیے متعلقہ محکموں کو تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے اقدامات کے تحت تعلیمی اداروں میں ہفتے میں تین روز کی چھٹیوں کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں محکمہ تعلیم سے بھی جامع رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ دوسری جانب، صوبے کی تاجر برادری اور کاروباری حلقوں نے موجودہ معاشی اور کاروباری حالات کا حوالہ دیتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی سخت مخالفت کی ہے۔ تاجر رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اوقاتِ کار کی پابندی سے کاروبار بری طرح متاثر ہوں گے، اس لیے حکومت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تاجروں کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔