اسلام آباد (حسبان میڈیا): اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ دستاویزات میں ملکی معیشت اور قرضوں کے حوالے سے ایک انتہائی ہوش رُبا اور تاریخی انکشاف سامنے آیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق بطور وزیر اعظم شہباز شریف کے دورِ اقتدار میں وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں پونے چار سال کے دوران 37 ہزار 307 ارب روپے کا ریکارڈ اور تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مستند تفصیلات کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شہباز شریف حکومت کے پہلے اور موجودہ دور کے مجموعی پونے چار سالوں میں ہونے والا یہ اضافہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پونے چار سالہ دورِ حکومت کے مقابلے میں 104 فیصد زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 323 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ شہباز شریف کے دونوں ادوار کا مجموعہ اس سے دگنے سے بھی زائد بنتا ہے۔
دستاویزات کے گہرے تجزیے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے پہلے 16 ماہ کے دورِ حکومت (اپریل 2022 سے جولائی 2023) کے دوران وفاقی قرضوں میں 18 ہزار 764 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب، موجودہ مخلوط حکومت کے ابتدائی 29 مہینوں (مارچ 2024 سے جولائی 2026) کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں کے بوجھ میں مزید 18 ہزار 543 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ معاشی ماہرین نے اسٹیٹ بینک کے ان اعداد و شمار کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری ساختیاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔