حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایک نئی جامع تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوراک میں سالم اجناس، یعنی ہول گرین غذاؤں کی مقدار بڑھانے سے کمر کی چوڑائی، کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور خون میں شکر سمیت دل کی صحت سے جڑے کئی اہم عوامل میں بہتری آسکتی ہے۔
یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں ہول گرین غذاؤں سے متعلق 87 کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 6,529 افراد شامل تھے۔ محققین نے مختلف مطالعات کے نتائج کو یکجا کرکے یہ جائزہ لیا کہ سالم اجناس کا باقاعدہ استعمال جسم کے میٹابولک اور قلبی خطرات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ 48 گرام خشک وزن کے برابر ہول گرین استعمال کرنے سے جسمانی وزن اور کمر کی پیمائش میں معمولی کمی کے ساتھ ساتھ مجموعی کولیسٹرول، ایل ڈی ایل یعنی خراب کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈز، بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی سطح میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق زیادہ نمایاں فوائد عموماً روزانہ 60 سے 100 گرام ہول گرین کے استعمال پر سامنے آئے، جو تقریباً 4 سے 6 سرونگز کے برابر بنتی ہے۔ تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مختلف صحت کے عوامل پر اثرات کی شدت ایک جیسی نہیں تھی۔
ہول گرین غذاؤں میں ایسے اناج شامل ہوتے ہیں جن کے بنیادی اجزا، یعنی چوکر، جرثومہ اور اندرونی حصہ، ریفائننگ کے دوران الگ نہیں کیے جاتے۔ براؤن رائس، اوٹس، ہول ویٹ بریڈ اور ہول ویٹ پاستا اس کی عام مثالیں ہیں، جبکہ سفید چاول اور ریفائنڈ پاستا اس کے مقابلے میں کم سالم اجناس پر مشتمل ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ سالم اجناس کے زیادہ استعمال سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور خون میں موجود ٹرائی گلیسرائیڈز میں کمی کے ساتھ سسٹولک بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی سطح میں بھی بہتری آسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہول گرین کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا مجموعی طور پر دل دوست غذائی طرزِ زندگی کا ایک مؤثر جزو ہوسکتا ہے، تاہم صحت مند غذا کے دیگر عناصر اور مجموعی غذائی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔