حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ترکیہ کا اہم بیان، مکہ معاہدے کے تحت پاکستان سے مشاورت کا اعلان Home / بین الاقوامی /

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ترکیہ کا اہم بیان، مکہ معاہدے کے تحت پاکستان سے مشاورت کا اعلان

ایڈیٹر - 20/09/2026
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ترکیہ کا اہم بیان، مکہ معاہدے کے تحت پاکستان سے مشاورت کا اعلان

حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے مسلسل حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کو بعض عسکری ضروریات پیش آسکتی ہیں، جن کا ترکیہ پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت جائزہ لے گا۔

حاقان فیدان نے کہا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں تک مختلف تجاویز پہنچائی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا فریق بنانا قابل قبول نہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والا بحران معاشی اعتبار سے ناقابل برداشت حد تک سنگین ہوچکا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ترکیہ کی جانب سے یوکرین اور روس کو بحیرہ اسود میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

دوسری جانب مصر نے سعودی دارالحکومت ریاض پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے مطابق ریاض پر حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

قاہرہ نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش مسترد کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مصر نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے جو بھی اقدامات ضروری سمجھے گا، ان کی حمایت کی جائے گی۔

مصر نے مزید واضح کیا کہ سعودی عرب اور مصر کی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں، اس لیے مملکت کو درپیش سیکیورٹی خطرات خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی باعث تشویش ہیں۔

ادھر اردن نے بھی ریاض کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔ اردن کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو روک کر تباہ کردیا۔

اردن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی مبینہ کوششوں کی بھی مذمت کی اور خطے میں شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔