حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو اور گردونواح کو بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ متعدد عمارتوں اور ایک اہم آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا۔
روسی حکام کے مطابق ہفتے سے اب تک ملک بھر میں 1,600 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا، جن میں تقریباً 450 ڈرونز ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ روسی فضائی دفاع نے بڑی تعداد میں ڈرونز کو دارالحکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق ماسکو آئل ریفائنری کے احاطے میں بھی متعدد ڈرونز پہنچے، جس سے تنصیب کو نقصان پہنچا۔ حملے کے دوران دھویں کے بادل بھی دیکھے گئے، تاہم ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
ماسکو ریجن کے گورنر آندرے وروبیوف کے مطابق ایک ڈرون 21 منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی اور تقریباً 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق حملے میں متعدد رہائشی عمارتیں اور گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔
روسی حکام نے ماسکو ریجن میں 2 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے حملے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کا مقصد روس میں جاری پارلیمانی انتخابات کے عمل کو متاثر کرنا تھا۔ تاہم یوکرین نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور روسی دعووں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس میں 18 سے 20 ستمبر تک 3 روزہ پارلیمانی انتخابات جاری ہیں اور آج ووٹنگ کا آخری روز ہے۔