حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری لڑائی ختم کرانے میں ایران کی مدد کی پیشکش، ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا عندیہ Home / بین الاقوامی /

سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری لڑائی ختم کرانے میں ایران کی مدد کی پیشکش، ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا عندیہ

ایڈیٹر - 20/09/2026
سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری لڑائی ختم کرانے میں ایران کی مدد کی پیشکش، ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا عندیہ

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے معاہدے سے ممکنہ دستبرداری کا معاملہ زیرِ غور ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ امریکا کے آئندہ اقدامات اور رویے کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے ابھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے، جسے این پی ٹی کہا جاتا ہے، سے نکلنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم موجودہ حالات میں اس آپشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے مرحوم رہنما علی خامنہ ای کے اس فتوے پر بدستور قائم ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی ممانعت کی گئی تھی، تاہم مستقبل کے حالات کے بارے میں ابھی کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق امریکا کا طرزِ عمل ایران کے آئندہ فیصلے پر اثر انداز ہوگا۔

ایرانی سکیورٹی چیف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن تک اپنی شرائط پہنچا دی ہیں اور امریکی جواب کا انتظار ہے۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب محسن رضائی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری لڑائی ختم کرانے میں ایران کی مدد کی پیشکش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حقیقی طور پر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اور یمن کی جانب سے ایران سے مدد طلب کی گئی تو تہران امن کے حصول کے لیے ثالثی اور مفاہمت کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہوگا۔

محسن رضائی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور مذاکرات کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے، جبکہ خطے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع بھی علاقائی صورتحال کو متاثر کر رہا ہے۔

ایرانی سکیورٹی چیف کے مطابق تہران کی جانب سے این پی ٹی سے ممکنہ دستبرداری کا فیصلہ فی الحال حتمی نہیں، بلکہ آئندہ حالات اور بالخصوص امریکا کے رویے کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔