حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے 3 بنیادی شرائط پیش کردی ہیں، جبکہ تہران کو اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن تک اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی ردعمل کا منتظر ہے۔
محسن رضائی کے مطابق تہران کی پہلی شرط تمام محاذوں پر جاری جنگ کا خاتمہ ہے، جبکہ دوسری شرط منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور تیسری امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ قطر کے ثالثی کردار کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں اور ایرانی مطالبات امریکی حکام تک پہنچائے جاچکے ہیں۔
محسن رضائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد بھی یہ رابطے جاری رہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں جون میں ہونے والی بات چیت کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس کا بنیادی مقصد جنگ بندی کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان کسی وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔
ایران کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد اب مذاکرات کی بحالی کا معاملہ امریکی ردعمل سے جڑ گیا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ قطر کے ذریعے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔