حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وفاقی تحقیقاتی ادارے نے آبپارہ میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری و استعمال میں مبینہ طور پر ملوث نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا، جبکہ وزارت خارجہ کے 6 افسران اور اہلکاروں سمیت 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی ٹیم نے قابل اعتماد اطلاعات پر آبپارہ کے ایف اینڈ ایف پلازہ میں قائم مختلف کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہریں اور متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئیں۔
تحقیقات کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں نجی ایجنٹس اور کوریئر و کنسلٹنسی اداروں سے وابستہ افراد کے علاوہ وزارت خارجہ کے بعض افسران اور اہلکار بھی شامل تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اپوسٹل اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل جلد مکمل کروانے کے نام پر درخواست گزاروں سے اضافی رقوم وصول کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی اے نے مقدمہ نمبر 48/2026 پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت درج کیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔
ادارے کے مطابق جعلی اپوسٹل دستاویزات کے ذرائع، ان کی تیاری اور ترسیل کے نیٹ ورک سمیت مزید ممکنہ طور پر ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ بعض متعلقہ کوریئر اور ایجنٹس کے دفاتر بھی سیل کیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزارت خارجہ کے دستاویزات کی تصدیق اور اپوسٹل نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے حکومت نے الگ انکوائری کمیٹی بھی قائم کی ہے۔