پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا 35 روزہ کراچی دھرنا ختم، ملک گیر 'سپر لانگ مارچ' کا آج سے آغاز
کراچی، 20 ستمبر 2026ء: پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف گورنر ہاؤس کراچی کے باہر گزشتہ 35 روز سے جاری جماعت اسلامی کا تاریخی دھرنا اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد کیا گیا، جس کے فوری بعد جماعت اسلامی نے اپنے احتجاجی دائرے کو وسعت دیتے ہوئے آج ہی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف "سپر لانگ مارچ" شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کے شرکاء سے اپنے الوداعی اور جذباتی خطاب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کا یہ طویل دھرنا عوامی حقوق کی جنگ کا پہلا پڑاؤ تھا، اور اب اس تحریک کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج بذریعہ ٹرین اس تاریخی لانگ مارچ کا آغاز کراچی سے ہو رہا ہے، جس میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اندرونِ سندھ سے بھی بڑے عوامی قافلے شامل ہوں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مقتدر حلقوں اور حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شوگر مافیا، آٹا مافیا، آئی پی پی (IPPs) اور بینکنگ مافیا مل کر غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں، جس کے خلاف جماعت اسلامی آخری حد تک جائے گی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے تصدیق کی کہ حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے متعدد دور ہوئے ہیں، تاہم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اب دباؤ وفاق پر بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امیرِ جماعت اسلامی کی قیادت میں شروع ہونے والا یہ مارچ پاکستان کی سیاسی اور عوامی تاریخ کا ایک بڑا یوٹرن ثابت ہوگا، جو حکمرانوں کو پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر ظالمانہ ٹیکسز واپس لینے پر مجبور کرے گا۔