کوہاٹ: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوہاٹ کے پرانے پولیس لائن میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد جائے وقوعہ اور متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے کوہاٹ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی اور شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کی۔
وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور ڈاکٹرز و طبی عملے سے ان کی صحت اور علاج کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو علاج کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
سہیل آفریدی نے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔
بعد ازاں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہا ہے اور اس طویل عرصے کے دوران صوبے کے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔
سہیل آفریدی نے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور سرحدی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسی کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ ان کے بقول افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ آنے اور بارڈر کی بندش سے خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مالی سال صوبے کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی معاشی مشکلات برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے دہشت گردی کے خلاف ایک ہی نوعیت کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس لیے اب پالیسی میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کی توجہ دہشت گردی کے بجائے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسی پیش کر رہی ہے، تاہم اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی۔
سہیل آفریدی نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کو جدید اسلحے اور ضروری وسائل سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
ان کے مطابق صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پولیس کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت ارکان صوبائی اسمبلی نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی کو بھی ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شہداء کے خاندان جو حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے لیے بھی صوبائی حکومت مالی معاونت کا اعلان کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے لیے اہم طبی آلات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے متاثر ہونے والی مسجد اور سپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی بھی تعمیر نو کرائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں 1,000 بستروں پر مشتمل ہسپتال کے قیام کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور منصوبے کو کم سے کم مدت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
موقع پر ارکان قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور داؤد آفریدی جبکہ صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی موجود تھے۔