دنیا ایک ایسے موسمیاتی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کے اثرات صرف بحرالکاہل کے ساحلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایل نینو اس وقت مضبوط ہو رہا ہے اور عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق آنے والے مہینوں میں اس کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں معمول کے درجہ حرارت، بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی کے پیٹرن تبدیل ہوسکتے ہیں۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے ستمبر 2026 کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ایل نینو پوری طرح قائم ہوچکا ہے اور فروری 2027 تک اس کے برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ تنظیم کے ماڈل بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ نومبر اور دسمبر 2026 کے دوران بہت مضبوط شدت تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان جیسے ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں معیشت، روزگار، خوراک اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ پانی اور زراعت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ تاہم اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ ایل نینو آخر ہے کیا؟
ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے پیدا ہونے والا قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ درجہ حرارت اور بارشوں کے عالمی نظام میں تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کے مطابق ایل نینو عموماً ہر 2 سے 7 سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور عام طور پر 9 سے 12 ماہ تک رہتا ہے، تاہم اس کی شدت اور وقت کے اعتبار سے اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔ یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہےکہ ایل نینو کا مطلب ہر ملک میں لازماً خشک سالی یا لازماً سیلاب نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات خطے، موسم، سمندری حالات اور دیگر موسمیاتی عوامل کے امتزاج سے طے ہوتے ہیں۔ خود عالمی موسمیاتی تنظیم نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی ملک پر اثرات صرف ایل نینو کی شدت سے متعین نہیں ہوتے۔
حالیہ دنوں میں میڈیا اور عوامی بحث میں “سپر ایل نینو” کی اصطلاح استعمال ہورہی ہے، لیکن عالمی موسمیاتی تنظیم کی سرکاری زبان میں موجودہ واقعے کو بہت مضبوط ایل نینو قرار دیا گیا ہے۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ستمبر تا نومبر 2026 کے دوران نیوینو 3.4 خطے میں سمندری درجہ حرارت کا موسمی اوسط معمول سے تقریباً 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ شدت میں اضافے کا رجحان نومبر اور دسمبر میں عروج تک پہنچ سکتا ہے۔یہ ایک غیر معمولی موسمیاتی صورتحال کی طرف اشارہ ضرور ہے، لیکن اسے پاکستان کے لیے کسی مخصوص تباہی کی قطعی پیش گوئی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے ایل نینو کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ بحرالکاہل کتنا گرم ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کا اثر پاکستان کے بارشوں، پانی، زراعت اور درجہ حرارت کے نظام پر کس طرح پڑے گا۔جنوبی ایشیا میں ایل نینو کے دوران خشک حالات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کے مطابق ایل نینو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے بعض حصوں میں معمول سے کم بارشوں کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً جنوبی ایشیا کے مون سون کے دوران۔پاکستان میں اس کا ممکنہ مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بعض علاقوں میں بارشوں میں کمی یا ان کے وقت میں تبدیلی آئے، مون سون کی بارشیں کم یا غیر معمولی انداز میں تقسیم ہوں،درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہیں،فصلوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہو، زیر زمین پانی پر دباؤ بڑھے، مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کی دستیابی متاثر ہو اور غذائی اجناس کی پیداوار اور قیمتوں پر دباؤ بڑھے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض موسمی حالات میں شدید بارشوں یا اچانک سیلاب کا خطرہ پیدا ہو۔ اس لیے پاکستان کو صرف خشک سالی کی تیاری نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایک ایسے موسمیاتی نظام کے لیے تیار ہونا چاہیے جس میں شدید گرمی، پانی کی کمی اور بعض اوقات انتہائی بارش ایک ہی بڑے موسمیاتی منظرنامے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اور دیہی روزگار میں زراعت کا بنیادی کردار ہے، جبکہ پانی کی دستیابی اس شعبے کی بنیاد ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں زراعت ملک کے پانی کے استعمال کا تقریباً 92 فیصد حصہ لیتی ہے، جس کی وجہ سے پانی کی دستیابی میں تبدیلی زرعی پیداوار کے لیے براہ راست خطرہ بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایل نینو سے پیدا ہونے والی بارشوں کی بے قاعدگی پاکستان میں گندم، چاول، مکئی، کپاس، گنے، سبزیوں اور دیگر فصلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم نے 2026 میں ایل نینو کے زرعی خطرات کا تجزیہ کرتے ہوئے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو ان خطوں میں شامل کیا جہاں ایل نینو سے منسلک خشک سالی کے باعث فصلوں اور چراگاہوں کو نمایاں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو بحران آنے کے بعد کسانوں کو معاوضہ دینے کے بجائے بحران سے پہلے کسانوں کو تیار کرنا ہوگا۔
اگر ایل نینو کے باعث بارشوں میں کمی یا غیر معمولی تقسیم ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پانی بن سکتا ہے۔پاکستان میں پہلے ہی زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کا مسئلہ موجود ہے۔ عالمی بینک کے مطابق زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ اخراج، آبی ذخائر کی آلودگی اور پانی کے انتظام میں کمزوریاں خشک سالی کے دوران پاکستان کی مزاحمت کم کرتی ہیں۔اس لیے مستقبل کی پالیسی صرف نئے ڈیم بنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے لیے پانی کے ضیاع میں کمی، نہری نظام کی بہتری، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، زیر زمین پانی کی نگرانی، جدید آبپاشی اور پانی کے استعمال کی مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔
موسمیاتی جھٹکا صرف کسان کے کھیت تک محدود نہیں رہتا۔ اگر فصل کم ہو تو اس کے اثرات منڈی، آٹے اور چاول کی قیمت، مویشیوں کے چارے، سبزیوں، روزگار اور بالآخر عام صارف کے کچن تک پہنچتے ہیں۔ عالمی سطح پر ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ 2026-27 کے ایل نینو کے نتیجے میں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا شکار 45 ممالک میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 225 ملین سے بڑھ کر 274 ملین تک پہنچ سکتی ہے، یعنی تقریباً 49 ملین افراد کا اضافہ۔ تاہم یہ مجموعی عالمی اندازہ ہے اور اسے پاکستان کے لیے براہ راست اعداد و شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان کی تناظر میںغذائی بحران کو فصل کی کٹائی کے بعد نہیں بلکہ بوائی سے پہلے روکنے کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
ایل نینو رسک سیل قائم کیا جائے، یعنی وفاقی سطح پر محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت قومی غذائی تحفظ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور آبپاشی و زراعت کے محکموں پر مشتمل مستقل ایل نینو رسک کوآرڈینیشن سیل بنایا جاسکتا ہے۔جس کا کام عالمی موسمیاتی پیش گوئیوں کو پاکستان کے اضلاع کی سطح پر قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔یعنی صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ خشک سالی کا خطرہ ہے، بلکہ کسان کو بتایا جائے کہ کون سی فصل کب کاشت کرے، کتنے پانی کی ضرورت ہوگی، کون سی فصل کم پانی میں بہتر رہے گی اور کس علاقے میں خطرہ زیادہ ہے۔
ابتدائی انتباہی نظام، چونکہ پاکستان میں موسمیاتی پیش گوئی اس وقت زیادہ مفید ہوگی جب وہ گاؤں کے کسان، چرواہے، ماہی گیر اور عام شہری تک بروقت پہنچے۔ لہذا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پہلے ہی ابتدائی انتباہی نظام کو مزید فعال بنانے اور صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے پر کام کررہی ہے۔لیکن اب ضرورت یہ ہے کہ اس نظام کو موبائل پیغامات، مقامی ریڈیو، مساجد، ضلعی انتظامیہ، کسان تنظیموں اور مقامی حکومتوں تک منظم انداز میں پھیلایا جائے۔ 2025 کے خیبر پختونخوا کے سیلابوں کے بارے میں عالمی بینک کی حالیہ جائزہ رپورٹ نے بھی ابتدائی انتباہ کے خلا کی نشاندہی کی۔ متاثرہ اضلاع کے ایک سروے میں 85 فیصد گھرانوں نے بتایا کہ سیلاب آنے سے پہلے انہیں کوئی انتباہ نہیں ملا۔یہ تجربہ خشک سالی اور شدید گرمی کی تیاری میں بھی اہم سبق فراہم کرتا ہے۔
کم پانی والی زراعت کی طرف منتقلی، یعنی پاکستان کو ایسی فصلوں اور زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہوگا جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔ مثال کی طور پر ، ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی، لیزر لینڈ لیولنگ، بہتر بیج جو خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام ہو، فصلوں کی متبادل منصوبہ بندی، مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے مختلف طریقے، موسمیاتی بنیاد پر زرعی مشاورت کو فروغ دینا، پانی کے حساب سے فصلوں کی زوننگ کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ عالمی بینک بھی پاکستان میں آب و ہوا سے ہم آہنگ زراعت اور پانی کے مؤثر استعمال کو زرعی لچک بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دے چکا ہے۔
پانی کے استعمال کا قومی ڈیٹا سسٹم، ہر قسم کام یا ترقی کے لیے پہلے سے معلومات کا موجود ہونا اہم ہوتا ہے، لہذا پاکستان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں کتنا پانی موجود ہے، کہاں کتنا استعمال ہورہا ہے اور کہاں زیر زمین پانی تیزی سے کم ہورہا ہے۔اس کے لیے ٹیوب ویل، زیر زمین پانی، نہری پانی، بارش، ذخائر اور فصلوں کے پانی کے استعمال کا مربوط ڈیٹا بیس بنایا جانا چاہیے۔ اور اس حوالے سے عالمی بینک کی پانی سے متعلق سفارشات میں بھی پانی کے ڈیٹا، نقشہ سازی، ماڈلنگ اور پیش گوئی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
5۔ کسانوں کے لیے موسمیاتی انشورنس اور مالی تحفظ بھی ضروری ہے، اگر موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں فصل تباہ ہوتی ہے تو چھوٹا کسان دوبارہ کھڑا ہونے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتا۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی فصل انشورنس، ہنگامی زرعی قرض، بیجوں کے پیکیج اور ہدفی نقد امداد جیسے نظام پہلے سے تیار رکھنے چاہئیں۔اور یہ امداد نقصان کے بعد شروع کرنے کے بجائے ایسے علاقوں میں پہلے سے فعال کی جاسکتی ہے جہاں موسمیاتی خطرے کی پیش گوئی زیادہ ہو۔
اگر خشک سالی کے باعث کسی فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے تو حکومت کو مارکیٹ میں اچانک بحران سے بچنے کے لیے اہم غذائی اجناس کے اسٹریٹجک ذخائر کا مؤثر نظام بنانا ہوگا۔ صرف ذخیرہ کافی نہیں؛ ذخائر کی مقدار، صوبائی تقسیم، نقل و حمل، قیمتوں کی نگرانی اور ضرورت مند گھرانوں تک رسائی بھی اس منصوبے کا حصہ ہونی چاہیے۔
ایل نینو عالمی سطح پر درجہ حرارت بڑھانے والے عوامل میں شامل ہوسکتا ہے اور عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ستمبر تا نومبر 2026 کے دوران تقریباً تمام زمینی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان موجود ہے۔پاکستان کو اس لیے شہروں اور دیہی علاقوں دونوں کے لیے ہیٹ ایکشن پلان مضبوط کرنا چاہیے۔
اس میں ہسپتالوں کی تیاری، ہیٹ ویو سینٹرز، پینے کے پانی کے مقامات، اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی، مزدوروں کے لیے کام کے اوقات، بجلی کی طلب کا انتظام اور کمزور افراد کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔
یہ شاید سب سے اہم پالیسی نکتہ ہے۔ کہ ایل نینو کا اثر صرف محکمہ موسمیات تک محدود نہیں۔ اس کے ممکنہ اثرات زراعت، پانی، خوراک، صحت، توانائی، روزگار، مہنگائی اور سماجی تحفظ تک پہنچ سکتے ہیں۔اسی لیے پاکستان کو ایک بین الوزارتی موسمیاتی رسک میکانزم کی ضرورت ہے جس میں وزارت خزانہ بھی شامل ہو۔ اس حوالے سے بھی عالمی بینک نے پاکستان کے لیے آب و ہوا سے متعلق خطرات کے مقابلے میں پانی، زراعت، شہری انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔
ایل نینو پاکستان کے لیے لازماً ایک تباہی نہیں ہے۔ یہ ایک خطرے کا اشارہ ہے۔اگر بارشیں کم ہوتی ہیں تو پہلے سے پانی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اگر خشک سالی کا امکان ہے تو فصلوں کا انتخاب بدلا جاسکتا ہے۔ اگر شدید گرمی کی پیش گوئی ہے تو ہیٹ ایکشن پلان پہلے سے فعال کیا جاسکتا ہے۔ اگر خوراک کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے تو ذخائر اور سماجی تحفظ کے پروگرام پہلے سے تیار کیے جاسکتے ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ایل نینو جیسے بحرانوں میں پیشگی اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ خشک سالی، سیلاب یا فصلوں کی ناکامی کو مکمل انسانی بحران بننے سے پہلے روکا جائے۔
ہمارے موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں رہی۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا موسمیاتی بحران آئے گا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ جب وہ آئے گا تو پاکستان کتنا تیار ہوگا۔ایل نینو کی موجودہ شدت پاکستان کے لیے ایک اور یاد دہانی ہے کہ پانی، زراعت اور موسمیاتی پیش گوئی کو الگ الگ شعبے سمجھنے کے بجائے ایک ہی قومی سلامتی اور معاشی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔ اگر پاکستان نے ابھی سے پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی زراعت، ابتدائی انتباہ، غذائی ذخائر، کسانوں کے مالی تحفظ اور مقامی سطح پر ہنگامی منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کی تو ایل نینو کے ممکنہ نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔لیکن اگر منصوبہ بندی ہمیشہ بحران آنے کے بعد شروع ہوئی تو ہر خشک سالی، ہر سیلاب اور ہر گرمی کی لہر پہلے سے زیادہ مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔