حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد زمین میں پراسرار ہلچل، 1399 زلزلوں نے سائنس دانوں کو چونکا دیا Home / بین الاقوامی /

شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد زمین میں پراسرار ہلچل، 1399 زلزلوں نے سائنس دانوں کو چونکا دیا

ایڈیٹر - 19/09/2026
شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد زمین میں پراسرار ہلچل، 1399 زلزلوں نے سائنس دانوں کو چونکا دیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): شمالی کوریا کے اہم جوہری تجربہ گاہ کے قریب 2017 کے بڑے جوہری دھماکے کے کئی سال بعد بھی زیر زمین زلزلوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں 2008 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 1399 زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ماؤنٹ مانتاپ اور اس کے گردونواح میں زلزلہ خیز سرگرمی شمالی کوریا کے آخری اور سب سے بڑے جوہری تجربے کے بعد نمایاں طور پر بڑھ گئی، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان زلزلوں کی تعداد اور شدت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

شمالی کوریا نے 2006 سے 2017 کے دوران ماؤنٹ مانتاپ کے علاقے میں مجموعی طور پر 6 زیر زمین جوہری تجربات کیے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوہری تجربات سے قبل یہ خطہ تقریباً 2,000 سال تک انتہائی کم زلزلہ خیز سرگرمی والا علاقہ رہا۔

2017 کے دھماکے کے بعد کیا بدلا؟

ماؤنٹ مانتاپ کے علاقے میں پہلا قابلِ ذکر زلزلہ 2013 میں ریکارڈ کیا گیا، جو شمالی کوریا کے تیسرے جوہری تجربے کے بعد آیا۔ تاہم اس کے بعد بھی کئی برس تک زلزلوں کی سرگرمی محدود رہی۔

اصل تبدیلی 2017 میں اس وقت سامنے آئی جب شمالی کوریا نے اپنا 6واں اور سب سے بڑا جوہری تجربہ کیا۔ دھماکے کے نتیجے میں 6.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ ہوا، جبکہ ماہرین کے مطابق پہاڑ کے اندر ایک سرنگ بھی بیٹھ گئی اور اس کی چوٹی کی ساخت میں تقریباً 3 میٹر تک تبدیلی واقع ہوئی۔

تحقیق کے مصنفین کے مطابق اسی واقعے کے بعد علاقے میں زلزلہ خیز سرگرمی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

پوسان نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ارضیاتی علوم کے پروفیسر کم نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ ریکارڈ کیے گئے بیشتر زلزلوں کی شدت 2 سے 3 کے درمیان تھی اور یہ نسبتاً کم گہرائی میں آئے۔

پروفیسر کم کے مطابق جوہری تجربات سے پہلے اس علاقے میں زلزلوں کی سرگرمی انتہائی محدود تھی۔ تاریخی ریکارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین اور کوریا کے خطے میں 2,000 سال سے زیادہ عرصے کے شواہد موجود ہیں، تاہم ماؤنٹ مانتاپ کے قریب ماضی میں زلزلوں کے واقعات انتہائی کم ملتے ہیں۔

پہاڑ کے اندر دراڑیں دوبارہ فعال ہونے کا امکان

سائنس دانوں کے مطابق 2017 کے جوہری دھماکے نے ماؤنٹ مانتاپ کے اندر موجود زمینی ساخت کو تبدیل کردیا اور ممکن ہے کہ پہاڑ کے نیچے پہلے سے موجود کم از کم 2 پرانی دراڑیں دوبارہ فعال ہوگئی ہوں۔

تحقیق کے مطابق شدید دھماکے سے نہ صرف پرانی اور غیر فعال دراڑوں میں حرکت پیدا ہوئی بلکہ چٹانوں کے اندر نئی دراڑیں بھی بنیں۔ ان شگافوں میں پانی داخل ہونے اور جمع ہونے سے زیر زمین دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں چٹانوں کے ایک دوسرے کے مقابل سرکنے کا عمل شروع ہوا اور چھوٹے زلزلے پیدا ہونے لگے۔

ماہرین کے لیے اس تحقیق کا اہم پہلو یہ ہے کہ جوہری دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زلزلہ خیز سرگرمی عموماً کئی سال بعد مسلسل بڑھتی نہیں رہتی۔

تاہم ماؤنٹ مانتاپ کے معاملے میں 2017 کے تجربے کے کئی سال بعد بھی زلزلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ صورت حال اس بات کی جانب اشارہ کرسکتی ہے کہ بڑے جوہری دھماکے نے علاقے کی زیر زمین ساخت پر ایسے طویل مدتی اثرات مرتب کیے جو برسوں بعد بھی زلزلہ خیز سرگرمی کو متاثر کر رہے ہیں۔