حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
چینی روبوٹس میں بڑی پیش رفت، 2027 تک عام زبان سمجھ کر خود کام کرے گا۔ Home / بین الاقوامی /

چینی روبوٹس میں بڑی پیش رفت، 2027 تک عام زبان سمجھ کر خود کام کرے گا۔

ایڈیٹر - 19/09/2026
چینی روبوٹس میں بڑی پیش رفت، 2027 تک عام زبان سمجھ کر خود کام کرے گا۔

حسبان میڈیا(ویب ڈیسک) : چین میں انسان نما روبوٹس تیار کرنے والی ایک کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کے نتیجے میں 2027 تک ایسے روبوٹس تیار ہوسکتے ہیں جو انسان کی عام بول چال میں دی گئی ہدایات سمجھ کر مختلف کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

چینی روبوٹک ٹیکنالوجی کمپنی اسپرٹ اے آئی کے شریک بانی اور چیف سائنٹسٹ گاؤ یانگ کے مطابق موجودہ روبوٹک نظام میں سب سے کمزور پہلو ان کا ’’دماغ‘‘ ہے، تاہم مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش رفت اس خلا کو تیزی سے کم کر رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے گاؤ یانگ نے بتایا کہ کمپنی کو توقع ہے کہ 2027 کے وسط تک روبوٹس اس قابل ہوجائیں گے کہ انسان انہیں عام زبان میں کوئی کام بتائے اور وہ اس ہدایت کو سمجھ کر اسے مکمل کرنے کے لیے درکار جسمانی حرکات کی پوری ترتیب خود طے کرسکیں۔

یہ پیش رفت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چیٹ جی پی ٹی کی کامیابی سے مشابہ قرار دی جارہی ہے۔ 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے عام صارفین کے لیے دستیاب ہونے کے بعد جنریٹو اے آئی نے تیزی سے ترقی کی، اب روبوٹک صنعت میں بھی ایسی ہی تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں روبوٹس محدود نوعیت کے مخصوص کاموں کے بجائے مختلف حالات میں متعدد ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔

روبوٹس کو انسانوں کے رویوں سے سیکھانے کی کوشش

اسپرٹ اے آئی روبوٹس کی تربیت کے لیے حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کے ساتھ چین بھر میں تقریباً 1,000 کنٹریکٹرز کام کر رہے ہیں، جو گھروں اور صنعتی مراکز میں انسانوں کی مختلف حرکات ریکارڈ کرنے کے لیے خصوصی آلات استعمال کرتے ہیں۔

بیجنگ میں قائم کمپنی کے ایک تربیتی مرکز میں نوجوان افراد سینسرز سے لیس ہوکر مختلف روزمرہ کے کاموں کی مشق کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں فریج کھولنا، سیف کا تالا کھولنا اور چاقو سے سبزیاں کاٹنے جیسی حرکات شامل ہیں۔

اس ڈیٹا کے ذریعے روبوٹس کو یہ سکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ انسان مختلف اشیا کو کس طرح پکڑتے، حرکت دیتے اور ان کے ساتھ مختلف کام انجام دیتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق نسبتاً منظم ماحول میں مخصوص نوعیت کے آسان کاموں کے دوران اس کے روبوٹس تقریباً 90 فیصد کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ گاؤ یانگ کا کہنا ہے کہ آئندہ 1 سے 2 سال صنعتی شعبے میں روبوٹس کے عملی استعمال کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے، جبکہ اس کے بعد تجارتی مقامات پر بھی انہیں نسبتاً آسان کام کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تاہم ان کے بقول گھروں میں روبوٹس کا استعمال کہیں زیادہ پیچیدہ مرحلہ ہوگا، کیونکہ وہاں ماحول مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے اور مشین کو ایسے متعدد کاموں کا سامنا ہوسکتا ہے جن کی اسے پہلے تربیت نہ دی گئی ہو۔

صنعتی اداروں میں روبوٹس کا استعمال شروع

اسپرٹ اے آئی اپنے ’’موزی‘‘ نامی پہیوں والے انسان نما روبوٹس کے درجنوں یونٹس بیٹری بنانے والی کمپنی ای اے ٹی ایل اور آن لائن ریٹیل کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کی پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کر رہی ہے۔ جے ڈی ڈاٹ کام اس چینی اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری بھی کرچکی ہے۔

تقریباً 300 افراد پر مشتمل اس کمپنی نے 2024 میں قیام کے بعد سے 670 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا ہے، جبکہ اس کی موجودہ مالیت تقریباً 20 ارب چینی یوآن، یعنی تقریباً 2.9 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

معمولی کام بھی روبوٹس کے لیے بڑا چیلنج

ماہرین کے مطابق انسانوں کے لیے بظاہر انتہائی معمولی کام روبوٹس کے لیے اب بھی مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بوتل کا ڈھکن کھولنے جیسے سادہ عمل میں بھی مختلف قوت اور گرفت کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ ایسے کام جن سے روبوٹ پہلے کبھی واقف نہ ہو، ان کے لیے مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔

اسی وجہ سے اسپرٹ اے آئی روبوٹس کی تربیت میں ورچوئل سمیولیشن کے مقابلے میں حقیقی دنیا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ورچوئل ماحول میں سخت اور ایک جیسی اشیا کے ساتھ حرکات کی نقل نسبتاً آسان ہے، لیکن بجلی کی لچک دار تار جیسی اشیا کے ساتھ حقیقی دنیا میں ہونے والی پیچیدہ حرکات کو درست طور پر نقل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

کمپنی کے مطابق مختلف ماحول، اشیا اور انسانی حرکات پر مشتمل متنوع حقیقی ڈیٹا روبوٹک ماڈلز کی تربیت کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔ چین کے بعض دیگر تربیتی مراکز میں کسی ایک