افغان مہاجرین کی واپسی: کمشنر کوئٹہ کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی ہدایت
کوئٹہ (حسبان نیوز ڈیسک): کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے صوبائی دارالحکومت اور گردونواح میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ کاری کو فول پروف بنانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ یہ احکامات انہوں نے افغان مہاجرین کی واپسی کے انتظامی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے۔
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت اب تک بلوچستان میں رہائش پذیر مجموعی طور پر 8 لاکھ افغان مہاجرین کو کامیابی کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افغان باشندوں نے حکومتی ترغیب پر رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ تاہم، بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ ان وسیع تر اقدامات کے باوجود اس وقت بھی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تقریباً 23 ہزار افغان مہاجرین موجود ہیں، جن کی مرحلہ وار محفوظ اور قانونی طریقے سے واپسی کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی ادارے مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
کمشنر کوئٹہ ذیشان لاشاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی اور حکومتی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان سے واپس افغانستان جانے کے بعد غیر قانونی طور پر دوبارہ سرحد عبور کر کے پاکستان آنے والے افغان مہاجرین کی سخت نگرانی کی جائے گی اور اس حساس معاملے پر حتمی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے صوبائی محکمہ داخلہ سے فوری طور پر خصوصی ہدایات اور گائیڈ لائنز طلب کی جائیں گی۔ کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا کہ دوبارہ آمد کی صورت میں قانون اور حکومتی مروجہ پالیسی کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ سرحد پار آمد و رفت کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جا سکے۔