حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے عوام کو حقیقی ریلیف نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کے بجائے اشتہاری مہم زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی 2 روز بعد اسلام آباد مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے 31ویں روز جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں 41 مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں، جبکہ اسلام آباد مارچ کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاہدوں سمیت اہم مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں معاملہ آگے بڑھانے کے بجائے مزید تاخیر یا ٹال مٹول سے کام لیا تو موجودہ مذاکراتی دور آخری ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول ایک طرف حکومت مذاکرات کررہی ہے جبکہ دوسری جانب رات کے وقت پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل کے طریقہ کار کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں بار بار اضافے سے عام شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیٹرول ریلیف پیکیج بھی عوام کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام کو خیرات یا عارضی ریلیف کے بجائے ان کا بنیادی حق ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں بھاری ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی شامل ہے، جسے کم کرنے کے لیے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے حکومتی تشہیری مہم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے دعووں کے مقابلے میں تشہیر پر زیادہ زور دیا جارہا ہے۔ ان کے بقول عوام پہلے ہی ٹیکسوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ بڑے پیمانے پر ہوگا اور اس میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں اور احتجاجی تحریک کے معاملے میں کسی دباؤ یا سیاسی مفاہمت سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
جلسے سے خطاب میں انہوں نے گندم اور چینی کی درآمد و برآمد سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ زرعی اجناس سے متعلق فیصلوں میں بعض بااثر کاروباری حلقوں کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ کسان اور عام صارف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی سرکاری اخراجات میں کمی اور حکمران طبقے سمیت سرکاری افسران کے لیے مراعات و سہولیات سے متعلق بھی اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھ چکی ہے، تاہم ان مطالبات پر مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔