حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کو بڑا سیاسی چیلنج، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرلی Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کو بڑا سیاسی چیلنج، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرلی

ایڈیٹر - 16/09/2026
ٹرمپ کو بڑا سیاسی چیلنج، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرلی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرلی، جس میں امریکی فوج کو ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ 7 ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کی حمایت کی۔ یہ ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی تیسری کوشش ہے۔

قرارداد کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں شریک امریکی افواج کو واپس بلائیں، تاہم امریکا یا اس کے اتحادیوں کو کسی فوری حملے سے بچانے کے لیے ضروری دفاعی اقدامات اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

یہ پیش رفت نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی ہے، جس کے باعث ایران جنگ کے عسکری، مالی اور سیاسی اثرات ایک مرتبہ پھر امریکی کانگریس میں نمایاں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

قرارداد کی منظوری کے باوجود جنگ فوری ختم نہیں ہوگی

ایوان نمائندگان سے منظوری کے باوجود قرارداد کے عملی نفاذ کے لیے امریکی قانون کے تحت مزید مراحل درکار ہیں۔ اس سے قبل بھی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے صدارتی اختیارات محدود کرنے کی کوششیں کی جاچکی ہیں۔

تازہ قرارداد کی منظوری کا مقصد کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے صدارتی اختیار کو محدود کرنا ہے۔

ایران جنگ پر 38 ارب ڈالر خرچ

دوسری جانب ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی اخراجات بھی امریکی سیاست میں اہم معاملہ بن گئے ہیں۔

کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 1 اگست 2026 تک ایران کے خلاف جنگ پر امریکی محکمہ دفاع کے تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ جاری رہنے کی صورت میں ہر ماہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی اخراجات میں استعمال کیے گئے گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی، جنگ میں ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان، اضافی پروازوں اور ایندھن سمیت دیگر عسکری اخراجات شامل ہیں۔

کانگریشنل بجٹ آفس نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جنگ کے دوران بعض اہم میزائل دفاعی ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے مستقبل میں ان ذخائر کی بحالی بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔