حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کے اعلان کے بعد پیٹرول پمپ مالکان نے طریقہ کار سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اہم سوالات اٹھا دیے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے کہا ہے کہ انہیں حکومت کے اعلان کردہ 100 روپے فی لیٹر سبسڈی پیکج کے طریقہ کار سے متعلق تاحال آگاہ نہیں کیا گیا۔
ہمایوں خان کے مطابق اگر پمپ مالکان کو ریلیف کی رقم کی ادائیگی کا واضح طریقہ کار نہ بتایا گیا تو اس صورتحال میں صارفین اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نعمان بٹ نے بھی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ سبسڈی کا اعلان تو کردیا گیا ہے، تاہم پمپ مالکان کو یہ نہیں بتایا گیا کہ صارفین کو رعایتی قیمت پر پیٹرول فراہم کرنے کے بعد سبسڈی کی رقم انہیں کس طریقہ کار کے تحت واپس ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ریلیف پیکج پر عمل درآمد سے قبل ادائیگی اور سبسڈی کی واپسی کا واضح نظام وضع کرے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا تنازع پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کے پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق موٹرسائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کا آغاز اسلام آباد سے ہوچکا ہے، جبکہ دیگر ع