حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبرپختونخوا میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، وزیراعظم کا نوٹس، 7 روز میں رپورٹ طلب Home / پاکستان /

خیبرپختونخوا میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، وزیراعظم کا نوٹس، 7 روز میں رپورٹ طلب

ایڈیٹر - 15/09/2026
خیبرپختونخوا میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، وزیراعظم کا نوٹس، 7 روز میں رپورٹ طلب

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر سونے کی کان کنی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لے لیا، جس کے بعد صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع میں غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کے خلاف فوری اور مربوط کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم آفس سے موصول ہونے والی 4 صفحات پر مشتمل خفیہ رپورٹ میں بالخصوص کوہاٹ ریجن میں غیر قانونی طور پر سونا نکالنے کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کی روشنی میں صوبائی حکومت نے غیر قانونی کھدائی فوری روکنے، مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات قبضے میں لینے جبکہ ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

حکومت نے غیر قانونی کان کنی میں سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، سرپرستی یا سہولت کاری کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ حکام کو واضح کیا گیا ہے کہ صرف ایف آئی آر درج کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ گرفتاری، چالان، سزا، جرمانے، مشینری کی ضبطی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز سمیت مقدمات کے عملی نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور، سیکریٹری معدنیات، ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو مراسلے ارسال کردیئے گئے ہیں۔

مراسلے کے مطابق محکمہ معدنیات، محکمہ داخلہ، پولیس اور متعلقہ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر نشاندہی شدہ علاقوں میں کارروائی کریں گے۔ غیر قانونی کھدائی بند کرانے کے ساتھ ساتھ مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات بھی قبضے میں لیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت نے تمام اضلاع میں قانونی اور غیر قانونی سونے کی کان کنی کے مقامات کا مکمل ضلعی ریکارڈ تیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ریکارڈ میں کان کنی کے مقامات کی جیو ٹیگ شدہ لوکیشن، ملوث افراد، آپریٹرز، مشینری کی ملکیت و رجسٹریشن، درج ایف آئی آرز، ضبط شدہ سامان اور مقدمات کی موجودہ صورتحال شامل ہوگی۔

حکام کو ان علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے جہاں ماضی میں کارروائی کے باوجود غیر قانونی کان کنی دوبارہ شروع ہوئی۔ اس مقصد کے لیے معدنیات، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ چیک پوسٹیں قائم یا مزید فعال کرنے اور نگرانی کا مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ معدنیات کو فیلڈ اسٹاف اور چیک پوسٹوں کی ضروریات فوری طور پر پیش کرنے جبکہ محکمہ داخلہ، پولیس اور متعلقہ کمشنرز کو نفاذ قانون کے لیے ضروری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات انہی افسران یا اہلکاروں کے ذریعے نہیں کرائی جائیں گی۔ آزادانہ فیکٹ فائنڈنگ یا انکوائری کے ذریعے ماضی کی کارروائیوں، مشینری کی ملکیت و رہائی، ایف آئی آرز اور دیگر ریکارڈ کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

اگر کسی سرکاری ملازم کی غفلت، قانون پر عمل درآمد میں دانستہ ناکامی، سہولت کاری یا بدعنوانی ثابت ہوئی تو محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ کرپشن، رشوت، مالی فائدے یا مجرمانہ سہولت کاری کے شواہد سامنے آنے کی صورت میں معاملہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو بھی بھجوایا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ صرف افسر کا تبادلہ ثابت شدہ بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کا ازالہ نہیں ہوگا۔

مراسلے میں سونے کے ذخائر اور قانونی کان کنی کی پیداوار کا سائنسی انداز میں تخمینہ لگانے کے لیے قابل اعتماد تکنیکی نظام وضع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معدنی بلاکس کی نئی حد بندی اور مزید علاقوں کی نشاندہی کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ معدنی وسائل کو شفاف اور قانونی نظام کے تحت لایا جاسکے۔

صوبائی حکومت نے مستقبل میں معدنی