حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سائبر حملوں کا بڑھتا خطرہ، پاکستان میں 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان منظور Home / پاکستان /

سائبر حملوں کا بڑھتا خطرہ، پاکستان میں 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان منظور

ایڈیٹر - 14/09/2026
سائبر حملوں کا بڑھتا خطرہ، پاکستان میں 90 روزہ ہنگامی ایکشن پلان منظور

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور سائبر وار فیئر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے سکیورٹی اقدامات مزید تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت 90 روزہ سائبر سکیورٹی اسٹریٹجک ایکشن پلان کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے صوبائی حکومتوں کو کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمز، یعنی سی ای آر ٹیز، کے قیام کا عمل جلد مکمل کرنے اور پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026 پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ فیصلے نیشنل کمیٹی فار انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز کے دوسرے اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس کابینہ ڈویژن میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری اور نیشنل کمیٹی فار انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز کے چیئرمین کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس کے شرکا کو ملک میں پیدا ہونے والے سائبر خطرات اور ان کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ اس امر پر زور دیا گیا کہ سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے فوری، مربوط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس موقع پر نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے جامع سائبر سکیورٹی اسٹریٹجک ایکشن پلان پیش کیا۔ نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم سائبر سکیورٹی ورکنگ کمیٹی کی سربراہی بھی کرتی ہے۔

منظور شدہ منصوبے میں آئندہ 90 روز کے دوران سائبر سکیورٹی کے شعبے میں گورننس بہتر بنانے، قواعد و ضوابط پر عملدرآمد، دستیاب وسائل کو مربوط کرنے، سائبر واقعات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے، سکیورٹی اسیسمنٹ اور سپلائی چین کے تحفظ سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026 پہلے ہی منظور ہوچکا ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری قرار دیا گیا۔

حکام کے مطابق بالخصوص سرکاری افسران کے لیے نیشنل سائبر سکیورٹی ہینڈ بک بھی تیار کرلی گئی ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے بھی وفاقی سطح پر کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس نظام کو فعال بنانے کے لیے محتاط اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت