حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ملک میں آئندہ مالیاتی پالیسی کا تعین کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں پالیسی ریٹ میں ردوبدل سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے دوران ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال، مہنگائی کے تازہ رجحان اور دیگر معاشی اشاریوں کا جائزہ لے گی، جس کے بعد آئندہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اگست کے دوران افراط زر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ دہرے ہندسے تک پہنچ گئی، جس کے بعد معاشی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ مرکزی بینک مہنگائی کے دباؤ کو قابو کرنے کے لیے پالیسی ریٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
اس سے قبل ہونے والے اجلاسوں میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا تھا، تاہم مہنگائی میں حالیہ اضافے نے شرح سود کے آئندہ فیصلے کو خاصی اہمیت دے دی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا تو اسٹیٹ بینک کے لیے شرح سود میں اضافے کا راستہ اختیار کرنا خارج از امکان نہیں، تاہم حتمی فیصلہ ملکی معاشی حالات اور تازہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔