حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دریائے سوات میں ڈوبنے سے 11 سیاح جاں بحق، 2 کی تلاش جاری، احتجاجی مظاہرے، انتظامیہ پر غفلت کے الزامات Home / سیاست /

دریائے سوات میں ڈوبنے سے 11 سیاح جاں بحق، 2 کی تلاش جاری، احتجاجی مظاہرے، انتظامیہ پر غفلت کے الزامات

ایڈیٹر - 28/06/2025
دریائے سوات میں ڈوبنے سے 11 سیاح جاں بحق، 2 کی تلاش جاری، احتجاجی مظاہرے، انتظامیہ پر غفلت کے الزامات

 سانحہ سوات: دریائے سوات میں ڈوبنے سے 11 سیاح جاں بحق، 2 کی تلاش جاری، احتجاجی مظاہرے، انتظامیہ پر غفلت کے الزامات
سوات (بیورورپورٹ) دریائے سوات میں طغیانی کے باعث سیاحت کی غرض سے آنے والے افراد کے ساتھ پیش آنے والا اندوہناک واقعہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن گیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کے بعد اب تک 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ترجمان وقار خان  کے مطابق 17 متاثرہ افراد میں سے چار کو زندہ نکال لیا گیا ہے، جبکہ باقی لاشوں کو سیدو ٹیچنگ اسپتال سے قانونی کارروائی کے بعد ان کے آبائی علاقوں سیالکوٹ اور مردان روانہ کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں 150 اہلکار اور غوطہ خور حصہ لے رہے ہیں ۔ دریائے سوات میں طغیانی کی وجوہات پر محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں شدید بارش، گلیشیئر کے پگھلنے اور آسمانی بجلی گرنے سے ندی نالوں میں طغیانی آتی ہے۔ سوات میں دریائے سوات پر چودہ سے زائد نالے آکر گرتے ہیں جو اچانک بڑے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت متاثرہ سیاح دریا کے بیچ میں سیلفیاں لے رہے تھے جب اچانک شدید ریلا آیا اور سب کو بہا لے گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریسکیو اہلکار ابتدائی طور پر بغیر تیاری کے آئے، رسی باندھی اور واپس چلے گئے۔ بعد ازاں تقریباً ایک گھنٹے بعد دوبارہ آئے لیکن تب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی تھیں۔ادھر سول ڈیفنس کے رضاکار احسان اللہ نے واقعے کو مکمل انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ تو خطرے کے وقت نالوں سے دور ہو جاتے ہیں لیکن سیاحوں کو اس بارے میں کوئی آگاہی نہیں دی جاتی۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ دریا کے قریب نہ جائیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔