حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد قومی اسکواڈ میں کی جانے والی اہم تبدیلیوں سے وہ خود بھی لاعلم تھے اور انہیں اس فیصلے کی اطلاع پاکستان کرکٹ بورڈ کے باضابطہ بیان کے ذریعے ملی۔
بابر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں تبدیلیاں ان کی مشاورت، معلومات یا منظوری کے بغیر کی گئیں۔ ان کے مطابق موجودہ سلیکشن نظام کے تحت بحیثیت کپتان انہیں اس عمل سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔
قومی کپتان نے واضح کیا کہ لارڈز ٹیسٹ کے اختتام کے بعد 7 کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تو یہ ان کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ ضرور کسی سوچ بچار کے بعد ہی کیا ہوگا۔
انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ قومی ٹیم میچ کے دوران کسی بھی شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی پیش نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم اپنی خامیوں اور کمزور کارکردگی کو تسلیم کرتی ہے، تاہم اب توجہ آئندہ میچ میں بہتر کھیل پیش کرنے اور سیریز کے آخری مرحلے میں مثبت نتیجہ حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
بابر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد ٹیم کے اندر فیصلوں کے طریقہ کار اور کپتان کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔