حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی سے اختلافات کے باوجود سیاسی مذاکرات ضروری ہیں: بلاول بھٹو Home / سیاست /

پی ٹی آئی سے اختلافات کے باوجود سیاسی مذاکرات ضروری ہیں: بلاول بھٹو

ایڈیٹر - 09/09/2026
پی ٹی آئی سے اختلافات کے باوجود سیاسی مذاکرات ضروری ہیں: بلاول بھٹو

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی جگہ موجود ہے، تاہم ملکی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات اور سیاسی رابطوں کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سندھ اور لاڑکانہ کے دورے سے متعلق کہا کہ سیاسی سرگرمیاں ہر جماعت اور رہنما کا آئینی و سیاسی حق ہیں۔ کسی دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ سندھ آئے تو اسے سندھ کی روایتی مہمان نوازی کے تحت خوش آمدید کہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لاڑکانہ پہنچنے پر انہوں نے خود ان کا خیرمقدم کیا تھا اور اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام بھی جاری کیا۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے ان کی سیاسی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

سڑک اکھاڑنے سے متعلق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بیان نہیں دیکھا، تاہم اگر کسی سیاسی دورے کے دوران وزیراعلیٰ کو اپنے اندرونی معاملات کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر ڈالنا درست نہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایسا فیصلہ خود پی ٹی آئی، اپوزیشن اور پارلیمنٹ کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو پارلیمان میں واپس آکر مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔

جے یو آئی کے ساتھ پارلیمانی روابط کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ جے یو آئی اپوزیشن کا حصہ ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کا ماحول بہتر رہا ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد بھی قائم ہوا ہے۔

محسن نقوی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کرنے میں آزاد ہے، محسن نقوی بھی اپنی رائے پیش کر رہے ہیں اور وہ اپنی بات کر رہے ہیں۔

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ یہ اہم قومی مسئلہ کاروباری یا دیگر فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں زیر بحث آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر کے ساتھ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام میں موجود خامیوں پر کھل کر گفتگو ضروری ہے تاکہ ان کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جاسکے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات اور 2024 کے عام انتخابات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابی عمل پر انہیں ماضی میں بھی تحفظات تھے اور اب بھی برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے انتخابات پر صرف اپوزیشن جماعتیں ہی اعتراضات نہیں اٹھا رہیں بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں بھی ان پر تنقید کر رہی ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ میں ایک جامع کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے، تاکہ انتخابی نظام سے متعلق موجود مسائل کا اتفاقِ رائے سے حل تلاش کیا جاسکے۔