حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوجائے گا۔
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت پاکستان اپنے اتحادی ملک کی مدد کرنے کا پابند ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سہ فریقی مکہ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، اس لیے سعودی عرب کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں معاہدے کی شقیں متحرک ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب یمن کی حوثی تنظیم انصاراللہ کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان میں حملے کیے گئے، جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ اس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔