حسبان میڈیا (ویب دیسک): پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آخری معرکہ آج برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا، جہاں قومی ٹیم سیریز میں 0-2 سے خسارے کے بعد وائٹ واش سے بچنے کے لیے میدان میں اترے گی۔
انگلینڈ نے سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو شکست دی۔ پہلے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 103 رنز سے کامیابی حاصل کی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے مات دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔
سیریز کا آخری ٹیسٹ پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔ قومی ٹیم کی جانب سے آخری میچ کے لیے 12 ممکنہ کھلاڑیوں کے نام زیر غور ہیں، جن میں 4 تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
ٹیم میں 3 ایسے کھلاڑی بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے جو تاحال ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکے۔ ان میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ وکٹ کیپر بلے باز غازی غوری، 29 سالہ آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا اور تیز گیند باز رضا اللہ شامل ہیں۔
غازی غوری کی برمنگھم ٹیسٹ میں شرکت تقریباً یقینی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ محمد عمران رندھاوا بھی ٹیسٹ کیریئر شروع کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ آل راؤنڈر نے 58 فرسٹ کلاس میچز کھیل رکھے ہیں اور بلے بازی کے ساتھ ساتھ درمیانی رفتار کی گیند بازی کرتے ہوئے 110 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
دوسری جانب آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم ایک غیر معمولی معاملے کے باعث بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر متعلقہ حکام کے موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیے ہیں، جو میچ کے اختتام تک بورڈ کے پاس رہنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ کے ضوابط کے تحت ڈریسنگ روم سمیت بعض مخصوص مقامات پر مواصلاتی آلات کے استعمال پر پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں، تاہم پوری سیریز کے دوران کھلاڑیوں کے موبائل فون جمع کرانے کے اقدام نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس اقدام کی تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ قومی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں شائقین کرکٹ اس فیصلے کی وجوہات جاننے کے لیے بورڈ کے مؤقف کے منتظر ہیں۔
قومی ٹیم کے لیے برمنگھم ٹیسٹ اب سیریز بچانے کا نہیں بلکہ شکست کے مکمل داغ سے بچنے کا آخری موقع بن چکا ہے۔