حسبان میڈیا (ویب ڈیسک):قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو اچانک عہدے سے ہٹائے جانے کی مبینہ وجوہات سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا۔
معروف اسپورٹس صحافی عبدالماجد بھٹی کے مطابق سرفراز احمد اور عمر گل کو کھلاڑیوں سمیت واپس بھیجے جانے کے معاملے کی اصل وجہ جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
عبدالماجد بھٹی نے دعویٰ کیا کہ سرفراز احمد کو عاقب جاوید کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں لارڈز ٹیسٹ کے لیے عبید شاہ یا عامر جمال کو لازمی طور پر ٹیم میں شامل کرنے جبکہ محمد رضوان کو باہر بٹھا کر غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ان کے مطابق سرفراز احمد نے اس معاملے پر کپتان بابر اعظم سے مشاورت کی، تاہم بابر اعظم نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمد رضوان اور خرم شہزاد کے ساتھ ہی میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔
عبدالماجد بھٹی کے بقول ٹیم سلیکشن کے معاملے پر یہی اختلاف ناراضی کا باعث بنا اور لارڈز ٹیسٹ کے اختتام کے بعد سرفراز احمد کو کوچنگ کی ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد اور ٹیم انتظامیہ کے درمیان اختلافات کی اصل نوعیت پر توجہ نہ دیے جانے کے باعث اس فیصلے کے پس پردہ عوامل سامنے نہیں آسکے۔
تاہم مذکورہ دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی اور متعلقہ فریقین کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف بھی سامنے آنا باقی ہے۔