ساہیوال: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وفاقی حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کا حالیہ شوشہ صرف اور صرف قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے حصول کے لیے چھوڑا گیا ہے، حکمران اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے نااہل ہو چکے ہیں، لہٰذا آئینِ پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز رہیں۔
حسبان میڈیا کے نمائندے کے مطابق ساہیوال میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ 1973 کے متفقہ آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے ملک کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ان کے مکمل آئینی و قانونی اختیارات دیے جائیں تو اس سے عوام کی خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زبوں حالی اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو نظر انداز کر کے صرف اختیارات کے حصول کی جنگ مزید معاشی تباہی کا سبب بنے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ جمیعت علمائے اسلام کا منشور اقتدار نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور دینِ اسلام کی سربلندی ہے، اور دین سے بڑھ کر انسانی حقوق کا کوئی دوسرا محافظ نہیں ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جس آئین کا حلف اٹھایا گیا ہے، پہلے اس کی پاسداری کی جائے۔ انہوں نے ناموسِ رسالت کے قوانین کو واپس لینے کی مبینہ سازشوں کی شدید مذمت کی اور ملک کی موجودہ معاشی و سیاسی بربادی کا ذمہ دار بیوروکریسی، جاگیردارانہ نظام اور مفاد پرست سیاست دانوں کو قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے دو صوبے اس وقت دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں، جہاں عام آدمی رات کو گھر سے نکلنے سے قاصر ہے، نوکریاں رشوت لے کر دی جا رہی ہیں اور ملک کو معاشی طور پر دنیا کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے انتباہ جاری کیا کہ پہلے ملک کو ٹھیک کیا جائے، کرومائٹ اور دیگر معدنی وسائل صوبوں کی ملکیت ہیں جنہیں تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر صوبوں کو ان کے جائز حقوق مل جائیں تو بار بار الیکشن چوری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔