حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ عدالتوں کے اخراجات عوام کے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں، اس لیے عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بالخصوص غریب اور ضرورت مند شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔
پشاور ہائیکورٹ کے عدالتی سال 2026-27 کی افتتاحی تقریب کورٹ روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق شاہ سمیت ہائیکورٹ کے دیگر ججز، پشاور ہائیکورٹ بار، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، خیبرپختونخوا بار کونسل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ وکلا کے لیے پارکنگ کا مسئلہ جلد حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ صوبے میں لا یونیورسٹی کے قیام کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال یونیورسٹی قائم کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو محدود مالی وسائل کے باعث مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں ہوسکا، اگر صوبے کو این ایف سی میں اس کا جائز حصہ مل جائے تو متعدد مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے پشاور ہائیکورٹ سے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی اور مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کو اس کا حصہ ملنے سے مالی مشکلات کم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
عدالتی سال کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے بتایا کہ مردان میں گواہوں کے عدالتوں میں پیش ہونے کی شرح 96 فیصد رہی، جبکہ عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ڈیجیٹل نظام نافذ اور ریکارڈ کی ڈیجیٹل مینجمنٹ بھی شروع کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے انسانی حقوق سیل کو گزشتہ عرصے کے دوران 1,079 درخواستیں موصول ہوئیں۔ پشاور، ایبٹ آباد، بنوں اور سوات میں 7 ڈبل ڈویژن عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص بجٹ 2 ارب روپے سے بڑھا کر 6 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عدالتوں کا ایک دن کا مجموعی خرچ تقریباً 12 کروڑ روپے بنتا ہے، اس لیے عدالتوں کا ایک دن کا بائیکاٹ بھی عوام کے 12 کروڑ روپے کے وسائل ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جن شہریوں کے پاس علاج کے لیے دوائی خریدنے کے پیسے نہیں، عدالتیں انہی عوام کے ادا کردہ ٹیکس سے چلتی ہیں۔ ان حالات میں غریب شہریوں کو انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران 38 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ ہزاروں زیر التوا مقدمات کے التوا کو ختم کرتے ہوئے عدالتی نظام میں پیش رفت کی گئی۔