حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کراچی میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شہر میں داخلے کے راستے بند کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کراچی ٹول پلازہ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک روز قبل بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انہیں خوش آمدید کہا گیا، تاہم اگلے ہی روز ان کے راستے میں کنٹینرز کھڑے کرکے سڑکیں بند کردی گئیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مطابق قافلے کو کراچی پہنچنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پولیس کی جانب سے بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی شاہراہ بند ہونے کے بعد پارٹی رہنما حلیم عادل شیخ کی حکمت عملی کے باعث وہ کارکنوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ راستے بند ہونے کے باعث انہیں متبادل اور کچے راستوں سے سفر کرنا پڑا، جبکہ بعض مقامات پر مخالف سمت سے گزرنے کی کوشش بھی کی، لیکن وہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ انہوں نے گزشتہ روز کے خیرمقدم اور آج کی رکاوٹوں کو سیاسی منافقت قرار دیا۔
کراچی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر طویل عرصے سے مسائل کا شکار ہے اور یہاں آنے والی مختلف سیاسی قوتوں نے کراچی کے وسائل سے فائدہ اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کراچی ملک کو 60 فیصد سے زائد ٹیکس فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے۔
سہیل آفریدی نے کارکنوں کو 27 ستمبر کو احتجاج کے لیے بھرپور تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ہر چوک کو احتجاج کا مرکز بنایا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ اگر وہ موجودہ سیاسی نظام سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں عمران خان کی قیادت کے لیے میدان میں نکلنا ہوگا۔
انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں اور عمران خان کے رشتہ دار نہیں، تاہم سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے منصب تک پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے کارکنوں میں سے بھی کوئی مستقبل میں اہم سیاسی منصب حاصل کرسکتا ہے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے 135 کارکن گرفتار کیے جاچکے ہیں، جبکہ پارٹی قیادت کے ایک اہم رہنما کو بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے باوجود کارکن بڑی تعداد میں ٹول پلازہ پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزار قائد کے اطراف کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے پر بھی حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا احتجاج موجودہ نظام میں مبینہ ناانصافی اور ظلم کے خلاف جدوجہد ہے۔ انہوں نے 27 ستمبر کو آزادی اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے اہم دن قرار دیتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
سلمان اکرم راجہ نے حکومت اور عدالتی نظام پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت عدالتی احکامات کو اہمیت نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آزاد عدلیہ اور آزاد صحافت کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے سیاسی معاملات پر دو خاندانوں کی بالادستی قائم ہے اور ان کے بقول یہ خاندان اپنے سیاسی مفادات اور اپنے قریبی لوگوں تک محدود ہیں۔