حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بلیو پاسپورٹس کی سب سے بڑی تعداد بیوروکریٹس کے پاس ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی ایسے پاسپورٹس کی تعداد میں نمایاں کمی کرچکی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاسپورٹ سے متعلق امور پر گفتگو کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے بتایا کہ انہیں اپنی فیملی کے پاسپورٹس بنوانے کے لیے بھی این او سی طلب کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔
عابد شیر علی کے مطابق وہ خود پاسپورٹ آفس گئے، جہاں متعلقہ عملے نے انہیں بتایا کہ پاسپورٹ کے اجرا کے لیے این او سی لازمی ہے اور یہ ہدایت وزارت داخلہ کی جانب سے دی گئی ہے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ کے اہلخانہ سے متعلق پاسپورٹ ڈیٹا وزارت داخلہ کو فراہم کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بلیو پاسپورٹس کی تعداد سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری سہولت کے حوالے سے بات کرتا ہے تو متعلقہ ممالک کی جانب سے پاکستان میں جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس کی تعداد کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایسے ممالک کو بلیو پاسپورٹس کی تعداد تقریباً 75 ہزار بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اب تک بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں 30 ہزار کی کمی کرچکی ہے، تاہم موجودہ تعداد میں سب سے بڑا حصہ بیوروکریٹس کے پاس موجود بلیو پاسپورٹس کا ہے۔
اجلاس کے دوران پاسپورٹس کے اجرا، این او سی کے تقاضوں اور بلیو پاسپورٹس کے استعمال سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔