صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں غول ڈیم کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ روڈ کنارے نصب دیسی ساختہ بارودی مواد (IED) کے دھماکے کے نتیجے میں پولیس موبائل کا ڈرائیور موقع پر ہی شہید ہو گیا، جبکہ گاڑی میں سوار 6 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، محکمہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار غول ڈیم کے قریبی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر مشترکہ سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ اس دوران سڑک کنارے پہلے سے نصب آئی ای ڈی کا زوردار دھماکا ہوا، جس کی زد میں پولیس کی موبائل گاڑی آ گئی۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں پولیس ڈرائیور واجد موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کرک عمران خان فوری طور پر بھاری پولیس نفری اور ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ڈی پی او عمران خان نے خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہوئے تمام زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر جائے وقوعہ سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ اور نقصان رسیدہ پولیس موبائل کو بھی جائے وقوعہ سے منتقل کر دیا ہے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر ناکہ بندی اور آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔