وانا/جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان کے تجارتی مرکز وانا بازار کی ایک مصروف سپر مارکیٹ میں ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی اور پولیس ذرائع سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دھماکے کی زد میں آ کر مقامی برادری کی معروف شخصیت مفتی جان میر شدید زخمی ہوئے، جو فوری طبی امداد کیلیے ہسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو کی ٹیمیں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام نے ابتدائی کرائم سین انویسٹی گیشن کے بعد شبہ ظاہر کیا ہے کہ تخریب کاری کی اس کارروائی میں ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم دھماکے کی حتمی نوعیت، ہدف اور اصل وجوہات کا قطعی تعین تفصیلی فرانزک رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ دن دیہاڑے مصروف ترین تجارتی مرکز میں ہونے والے اس گرنیڈ حملے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ اہل علاقہ اور تاجر برادری نے واقعے پر گہرے دکھ، افسوس اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اس سنگین سیکیورٹی غفلت پر مقامی افراد اور وانا بازار کی تاجر تنظیموں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مارکیٹ میں مستقل پولیس نفری اور چوکیاں قائم کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ دن کے اجالے میں اس طرح کا پُرشدد واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور امن و امان کے دعووں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کا تعین کرنے کے لیے جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد اور سی سی ٹی وی فٹیج اکٹھی کی جا رہی ہیں، اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔