اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں 15 سے 17 نئے انتظامی یونٹس (صوبوں) کے قیام اور ایک قومی حکومت کے تحت گرینڈ ڈائیلاگ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے موروثی سیاست پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل اس لیے ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ سیاسی طاقت دو تین مخصوص خاندانوں کے چنگل سے نکل کر براہِ راست عوام کے ہاتھوں میں منتقل ہو سکے۔
سابق وفاقی وزیر نے ملکی جمہوریت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں جمہوری عمل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی جماعتوں کے اندر تنظیمی ڈھانچے (سٹرکچر) کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ملک میں 15 یا 17 وزراء اعلیٰ ہوں گے، تو سیاسی جماعتیں داخلی طور پر مضبوط اور جمہوری ہونے پر مجبور ہو جائیں گی، اور پھر کسی ایک فرد کے لیے اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے میں ملک کی اہم ترین اصلاحات ہیں، تاہم اس بڑے مقصد کے حصول کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا لازم ہے، جو صرف ایک قومی حکومت کے تحت گرینڈ ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اپنے بیان کے دوسرے حصے میں فواد چوہدری نے موجودہ حکومت پر سخت وار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو براہِ راست ہدف بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہباز شریف اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دیں تاکہ ان بڑی اور ضروری سیاسی اصلاحات کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔ انہوں نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خود حکومت کے اپنے وزراء کی جانب سے حالیہ توہین آمیز بیانات کے بعد، اب شہباز شریف کی حیثیت ایک "ڈمی وزیراعظم" سے زیادہ کچھ نہیں رہ گئی ہے، اس لیے انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔