حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"اب کوئی قیدی وکلا کی فیس نہ ہونے پر جیل میں نہیں سڑے گا"؛ خیبرپختونخوا حکومت نے غریب قیدیوں کیلیے بڑا قدم اٹھا لیا۔ Home / پاکستان /

"اب کوئی قیدی وکلا کی فیس نہ ہونے پر جیل میں نہیں سڑے گا"؛ خیبرپختونخوا حکومت نے غریب قیدیوں کیلیے بڑا قدم اٹھا لیا۔

ایڈیٹر - 03/08/2026

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے عدالتی نظام میں اصلاحات اور نادار طبقے کو انصاف کی بلا تعطل فراہمی کیلیے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والے مستحق اور بالخصوص خواتین قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کی مختلف سینٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں باقاعدہ طور پر "لیگل ایڈ ڈیسک کمیٹیاں" قائم کر دی گئی ہیں۔ یہ کمیٹیاں جیلوں میں بند ایسے نادار قیدیوں کے مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیں گی جو بھاری فیسیں نہ ہونے کے باعث اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے سے قاصر ہیں، اور انہیں سرکاری خرچ پر نامور وکلا کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پراسیکیوشن رفیق مہمند کے مطابق، صوبے بھر میں یہ خصوصی کمیٹیاں یکم جولائی 2026ء سے مکمل طور پر فعال کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس اہم ترین اقدام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت کوئی بھی شہری محض مالی تنگدستی یا غریب ہونے کی وجہ سے اپنے بنیادی قانونی حقِ دفاع سے محروم نہ رہے۔ ڈی جی پراسیکیوشن نے مزید بتایا کہ اس وقت صوبے کی تمام جیلوں سے مستحق، غریب اور خواتین قیدیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ کوئی بھی حقدار اس سہولت سے محروم نہ رہ سکے۔

محکمہ پراسیکیوشن کے حکام کے مطابق، قانونی امداد حاصل کرنے کے خواہشمند قیدی یا ان کے لواحقین اپنی درخواستیں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوشن آفس، جیل سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی کمشنر (DC) اور اسسٹنٹ کمشنر (AC) کے دفاتر میں جمع کروا سکتے ہیں۔ رفیق مہمند نے اعتراف کیا کہ ماضی میں صوبے کے مختلف اضلاع میں لیگل ایڈ کمیٹیاں غیر فعال ہو چکی تھیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں غریب قیدی اور خواتین عدالتوں میں اپنے مقدمات کا مؤثر دفاع نہیں کر پا رہی تھیں اور معمولی جرائم میں بھی طویل عرصے تک قید کاٹنے پر مجبور تھیں۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ان نئی کمیٹیوں کے فعال ہونے سے جیلوں میں قیدیوں کا بوجھ کم ہوگا اور نادار افراد کو بروقت انصاف مل سکے گا۔