پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے موجودہ ریاستی نظام کی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پشاور میں ایک عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی قائد نے سخت ترین لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ انصاف فراہم کرنے والے پرچیوں پر چل رہے ہیں جبکہ شفاف انتخابات کے ذمہ دار دیگر طاقتوں کے فیصلوں کے منتظر ہیں، جس کے باعث موجودہ سسٹم مکمل طور پر کولیپس کر چکا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ نظام صرف ایک ہی شخص ٹھیک کر سکتا ہے اور وہ عمران احمد خان نیازی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے غیر مشروط وفاداری اور وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کارکنان کو حتمی جدوجہد کیلیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ انہوں نے وفاق اور مقتدر حلقوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ اس بار واپسی کا کوئی راستہ نہیں، چاہے سامنے سے گولیاں چلیں، ٹینک آئیں یا راکٹ لانچرز، وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے اور آخری دم تک صفِ اول میں کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ گدھے پر لکیریں ڈالنے سے وہ زیبرا نہیں بن جاتا، نظام کو تباہ کرنے والے ملکی معیشت اور بقا کیلیے ناسور بن چکے ہیں جن سے ملک کو آزاد کروانا ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں سہیل آفریدی نے صوبے کے حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو طویل عرصے سے ایک تجربہ گاہ بنا کر رکھا گیا ہے، جہاں ایک سابق جرنیل نے ڈالر کمانے کی خاطر پورے صوبے کو پرائی جنگ میں دھکیل کر 80 ہزار سے زائد معصوم شہریوں کو شہید کروایا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں مقتدرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کے پاس پشتونوں کے بچوں پر بمباری کرنے کیلیے بارود موجود ہے، تو انہیں گھروں کا چولہا جلانے کیلیے ایندھن اور گیس بھی فراہم کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پشتونوں کے سروں کی قیمت لگوا کر جزیرے خریدنے کا سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔