ویب ڈیسک: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادرآباد مرکز میں دو مختلف گروپوں کے درمیان شدید کشیدگی تصادم میں تبدیل ہو گئی، جس کے نتیجے میں رہنماؤں سمیت ایک درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں لینے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق بہادرآباد مرکز میں خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایک اجلاس جاری تھا۔ اسی دوران انیس قائم خانی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مرکز پہنچے، جہاں دونوں گروپوں کے کارکنوں کے درمیان ابتدا میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اطلاعات کے مطابق خالد مقبول صدیقی کے مرکز سے روانہ ہونے کے بعد دونوں دھڑوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور معاملہ ہاتھا پائی اور شدید تصادم تک جا پہنچا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق جھڑپ کے نتیجے میں متعدد کارکن اور چند اہم رہنما زخمی ہوئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران مرکزی کمیٹی کے ایک رکن کے کپڑے پھاڑ دیے گئے، جبکہ سندھ اسمبلی کے رکن حافظ اعجاز الحق اور قومی اسمبلی کی رکن سبین غوری کے ساتھ بھی مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری بہادرآباد مرکز پہنچ گئی اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے۔
تاہم، خبر شائع ہونے تک متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی قیادت کی جانب سے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ پولیس بھی تصادم کی وجوہات اور سامنے آنے والے دعوؤں کی تحقیقات میں مصروف ہے۔