ویب ڈیسک: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح برتری کے ساتھ سب سے آگے نکل آئی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر ترپن نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں تینتیس نشستیں آزاد کشمیر کے مقامی ووٹرز، آٹھ مخصوص نشستیں اور بارہ نشستیں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی آٹھ جبکہ مہاجرین کی بارہ نشستوں پر پولنگ ہوئی، جس کے بعد جاری ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گیارہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں میں راجا محمد فاروق، مصطفیٰ بشیر، یاسین لون، احمد رضا قادری، محمد عامر شاہ، احسن رضا، راجا محمد صدیق اور شوکت علی شاہ شامل ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سید بازل علی، دیوان علی چغتائی، مجید خان اور مختار عباسی نے کامیابی حاصل کی۔
انتخابی عمل کے دوران بعض حلقوں سے غیر معمولی صورتحال بھی سامنے آئی۔ شکارپور کے ایک پولنگ مرکز میں چار ووٹ رجسٹرڈ ہونے کے باوجود ایک بھی ووٹ کاسٹ نہ ہو سکا، جبکہ ڈیرہ غازی خان کے ایک پولنگ اسٹیشن پر صرف ایک خاتون نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس کا ووٹ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ناصر ڈار کے حصے میں آیا۔ اسی طرح چک جھمرہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بھی ووٹنگ کا عمل نہ ہو سکا۔
یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی تیرہ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) نے نو نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔ اب تک سامنے آنے والے مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابی معرکے میں مسلم لیگ (ن) سب سے مضبوط سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔