حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کے ثبوت موجود ہیں، بلاول بھٹو کا بڑا دعویٰ Home / سیاست /

کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کے ثبوت موجود ہیں، بلاول بھٹو کا بڑا دعویٰ

ایڈیٹر - 30/07/2026
کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کے ثبوت موجود ہیں، بلاول بھٹو کا بڑا دعویٰ

ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس متعدد پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ بے ضابطگیوں اور قبضے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے ووٹ اور جمہوری حق پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے اور اس معاملے میں کسی دوسرے کو مداخلت کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس کے پاس آزاد کشمیر کو درپیش سیاسی مسائل کا مؤثر حل موجود ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کی اطلاعات اور ثبوت ان کے پاس موجود ہیں، جبکہ جن پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں ووٹر ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر 99 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بلاول بھٹو نے بعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ایسے عناصر کو مسترد کرتے ہیں جو راولاکوٹ کے شہریوں کی شناخت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بیانات عوامی جذبات کے منافی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تمام سیاسی قوتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ انتخابی تنازعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے "سچ اور مفاہمتی کمیشن" قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق کمیشن کی رپورٹ آنے تک تمام فریق احتجاج سے گریز کریں تاکہ معاملات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن وزیراعظم آزاد کشمیر کو ذمہ دار قرار دیتا ہے تو پیپلز پارٹی احتساب کے عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ عوام کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چوہدری یاسین سمیت پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں کو نئی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ان کی نشستیں دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے سے پہلے ان کی جماعت کی شکایات کا منصفانہ ازالہ کیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ طاقت، تشدد اور اسلحے کے زور پر حاصل کی جانے والی کامیابی عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ مرحلے کے انتخابات سے قبل تمام انتخابی اعتراضات کو شفاف انداز میں حل کیا جائے۔