ویب ڈیسک: امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اس سے وابستہ گروہوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واپسی کے سفر کے لیے آخری وقت میں اپنا صدارتی طیارہ تبدیل کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ سروس نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے وقت قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے صدارتی طیارے کے بجائے روایتی صدارتی طیارہ استعمال کریں، کیونکہ سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی زیادہ محفوظ سمجھا گیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے خفیہ سروس کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے پرانے صدارتی طیارے میں سفر کیا، جس کے بعد قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے کی حفاظتی صلاحیتوں اور دفاعی نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس موقع پر نہ صرف صدر ٹرمپ بلکہ نئے صدارتی طیارے کو بھی ممکنہ خطرات لاحق تھے، جس کے باعث احتیاطی اقدامات اختیار کیے گئے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں پر غور کیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات جولائی کو ترکیہ میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئے صدارتی طیارے کے ذریعے پہنچے تھے، تاہم اجلاس کے بعد انگلینڈ روانگی کے لیے انہوں نے پرانا صدارتی طیارہ استعمال کیا۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ آخری لمحات میں کیا گیا کیونکہ نئے طیارے میں بعض جدید حفاظتی اور انسداد دہشت گردی نظام موجود نہیں تھے جو روایتی صدارتی طیارے کا حصہ ہیں۔
ادھر امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں توجہ ذرائع ابلاغ پر نہیں بلکہ ان افراد پر مرکوز ہے جنہوں نے مبینہ طور پر خفیہ معلومات افشا کیں۔ تاہم اخبار میں کیے گئے دعوؤں پر امریکی حکومت یا خفیہ سروس کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔