ویب ڈیسک: یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر جازان کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے عسکری مراکز پر فضائی کارروائیاں کی ہیں اور پورے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
حوثیوں کے مطابق میزائل حملہ سعودی عرب کی حالیہ فوجی کارروائیوں کا جواب تھا۔ تاہم سعودی حکام نے تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے یمن کے صوبہ الحدیدہ اور دیگر علاقوں میں حوثیوں کے فوجی اہداف پر فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ کارروائی کا مقصد بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ اور حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں الحدیدہ کی بعض بحری تنصیبات، مواصلاتی مراکز اور کمران جزیرے میں قائم فوجی کیمپ متاثر ہوئے، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا اور سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ گروپ نے رواں ہفتے دو سعودی بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی، جبکہ سعودی حکام نے ان میں سے ایک واقعے میں جہاز کو معمولی نقصان پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ رکاوٹوں کے باعث بحیرۂ احمر سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے مزید اہم تجارتی راستہ بن گیا ہے، جس کے باعث اس سمندری گزرگاہ کی اسٹریٹجک اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ تہران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ایران حالیہ بات چیت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو اسے مزید سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ادھر ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں ایک ڈیٹا مرکز پر حملے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم امریکا، بحرین اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں، متضاد دعوؤں اور جوابی کارروائیوں نے خطے میں ایک وسیع تر تنازع کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔