پشاور : صوبائی دارالحکومت پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن اور مہاجرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے سلسلے میں انتظامیہ نے ایک بڑے آپریشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں میں کام کرنے والے مہاجر چوکیداروں اور سیلز مینوں کو فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کرنے کی باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پشاور کے مختلف بازاروں، تجارتی مراکز اور گنجان آباد رہائشی علاقوں میں بڑی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین بطور سیکیورٹی گارڈز، چوکیدار اور دکانوں پر سیلز مین کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انتظامیہ نے شہر کے مختلف بازاروں کی انجمنوں اور رہائشی سوسائٹیز کے منتظمین کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار سے غیر قانونی مہاجر ملازمین کو فوری طور پر فارغ کریں۔
اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور کے نجی ہسپتالوں، ہوٹلوں، کارخانوں اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے خلاف بھی ایک جامع آپریشن کا آغاز کر دیا ہے تاکہ وہاں موجود غیر قانونی طور پر مقیم افرادی قوت کا سراغ لگا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد مقامی سطح پر روزگار کے مواقعوں کو قانونی بنانا اور شہر کے سیکیورٹی نظام کو مزید فول پروف بنانا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت غیر قانونی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا سلسلہ بھی بلا تعطل اور بدستور جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سخت قانونی کارروائیوں اور بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی واپسی کے باعث پشاور کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر جہاں مہاجرین کی بڑی تعداد مقیم تھی، اب وہاں مکانات، دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کے کرایوں میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس سے مقامی شہریوں کو رہائشی اور تجارتی مکانات کے حصول میں بڑی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔