ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والی شدید کشیدگی کے بعد اگرچہ براہِ راست فوجی کارروائیوں میں نسبتاً کمی دیکھی جا رہی ہے اور سفارتی رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی اتحاد، یمن کے حوثی، ایران اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
تازہ پیش رفت میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے یمن کے صوبہ الحدیدہ میں حوثیوں کے زیرِ استعمال عسکری ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی۔ اتحادی افواج کے مطابق حملوں کا مقصد بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ اور حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
اتحادی افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن کی تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں اور کارروائی کے دوران کسی بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ اگر حوثیوں کی جانب سے حملے جاری رہے تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
سعودی فضائی کارروائی کے بعد حوثیوں نے جوابی ردعمل میں سعودی عرب کے علاقے جازان پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب خلیجِ عمان میں ایک مائع گیس بردار بحری جہاز پر میزائل حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ حملے میں عملے کے دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ جہاز کو غلط شناخت کے باعث نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت، بحرین اور عمان میں امریکی فوجی مراکز پر حملے کیے گئے، جبکہ اردن کے الازرق فضائی اڈے پر کارروائی میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ کویت کے العدیری کیمپ میں امریکی اسلحہ کے تین گودام تباہ کیے گئے، جبکہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے ایک واچ ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بحرین اور کویت نے خفیہ طور پر ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذخیرہ گاہوں سمیت مختلف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ان کارروائیوں کے لیے بحرین اور کویت کو ایرانی اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ امارات متعدد دیگر کارروائیوں میں بھی شریک رہا۔ تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
خطے میں جاری ان متضاد دعوؤں، جوابی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی تنازع کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔