ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل توئی خلہ کے علاقے زرمیلن میں اراضی کے تنازع پر جاری قبائلی جرگہ اس وقت خونریز تصادم میں تبدیل ہو گیا جب فریقین کے درمیان اچانک فائرنگ شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دینار خیل قبیلے کے دو ذیلی گروہوں کے درمیان زمین کے پرانے تنازع کے حل کے لیے جرگہ جاری تھا، تاہم بات چیت کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے اور دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ایک زخمی کی حالت نازک ہونے کے باعث اسے خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل بھی اسی تنازع کے باعث ایک شخص زخمی ہوا تھا، جس کے بعد سلیمان خیل قبیلے کے عمائدین کی کوششوں سے چار روزہ جنگ بندی کرائی گئی تھی، لیکن تازہ فائرنگ کے بعد یہ معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
قبائلی عمائدین کے مطابق اراضی کا دیرینہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ صورتحال کو قابو میں لانے اور فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کرانے کے لیے بزرگوں کی نئی کوششوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔