حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبرپختونخوا میں بڑھتی بد امنی پر اے این پی کا انتباہ، میاں افتخار حسین نے مستقل حکمت عملی کا مطالبہ کردیا Home / سیاست /

خیبرپختونخوا میں بڑھتی بد امنی پر اے این پی کا انتباہ، میاں افتخار حسین نے مستقل حکمت عملی کا مطالبہ کردیا

ایڈیٹر - 16/07/2026
خیبرپختونخوا میں بڑھتی بد امنی  پر اے این پی کا انتباہ، میاں افتخار حسین نے مستقل حکمت عملی کا مطالبہ کردیا

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے لوئر دیر میں پولیس قافلے اور بنوں میں تھانے پر ہونے والے نامعلوم افراد کے جانب سے ہونے والے  حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میاں افتخار حسین نے حملوں میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی  کے خلاف غیر مؤثر اور عارضی پالیسیوں کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام اور سیکیورٹی اہلکار بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنے کے بجائے خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔

اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم موجودہ حالات میں حکومتیں اس ذمہ داری کو مؤثر انداز میں پورا کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔

میاں افتخار حسین نے مالاکنڈ ڈویژن میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوات اور دیر سمیت دیگر علاقوں میں بدامنی کے ذمہ دار  عناصر کی موجودگی اور حالیہ کارروائیاں انتہائی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع اور جنوبی اضلاع پہلے ہی بدامنی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہے کہ بدامنی جیسے بڑے مسئلے کو وقتی اقدامات یا صرف ردعمل پر مبنی پالیسیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ  صوبے میں جاری بدامنی کے خاتمے کے لیے واضح، مستقل، عوامی اعتماد پر مبنی اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ حکمت عملی اپنائی جائے، بصورت دیگر حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدامنی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کو مشترکہ اور سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔