تل ابیب: اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے کسی بھی جنگی یا تزویراتی ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں یائر لاپید نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے باوجود ایران کی موجودہ حکومت برقرار رہے گی، اس کا میزائل پروگرام بدستور جاری رہے گا اور مستقبل میں تہران کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنا بھی ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان تمام بنیادی نکات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو پھر اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال حکومت کی سفارتی اور سکیورٹی حکمت عملی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
یائر لاپید کے مطابق اسرائیل اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنی قومی سلامتی سے متعلق اہم معاملات میں خود فیصلے کرنے کے بجائے دیگر ممالک کے فیصلوں اور ہدایات کا منتظر دکھائی دیتا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے جو اہداف اور دعوے تھے، ممکنہ امریکا-ایران معاہدہ ان میں سے کسی کو بھی عملی شکل دیتا دکھائی نہیں دیتا۔
اس بیان کے بعد اسرائیلی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی ایران پالیسی پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔