حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا"؛ اپوزیشن لیڈر کا حکومت کو مذاکرات کا مشورہ Home / سیاست /

"ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا"؛ اپوزیشن لیڈر کا حکومت کو مذاکرات کا مشورہ

ایڈیٹر - 14/06/2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو سیاسی معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کی اصلاح ہمیشہ ممکن ہوتی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ایسا قومی معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست اور سیاسی کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے جمہوری نظام مزید کمزور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کے بجائے سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے وفاق اور صوبوں کے مالی معاملات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کے حصے کے وسائل میں مداخلت کی ہے، حالانکہ وفاق کی ذمہ داری صوبوں کو ان کا جائز حق فراہم کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران انہوں نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے معاملے کو بھی ایوان میں اٹھایا اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے سوال کیا کہ اقبال آفریدی کو ایوان سے کیوں نکالا گیا۔

اس پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی نے ایوان میں نامناسب رویہ اختیار کیا، لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کی۔

اسپیکر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر وہ اراکینِ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے عملے کے تحفظ کو یقینی نہیں بنا سکتے تو پھر انہیں اس منصب پر بیٹھنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے مذاکرات اور قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔